Posts

Showing posts from January, 2021

ہزل اور پیروڈی

پیروڈی نمبر 1 *دور جدید کے کسی " فراز" کی غزل سنئیے* 😀😀👇👇😀😀👇👇 سنا ہے لوگ اُسے Zoom کر کے دیکھتے ہیں  اگر یہ سچ ہے توپھر Add کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو حسین چہروں سے سو اپنی Profile picture بدل کے دیکھتے ہیں سنا ہے دوست ہیں اسکے بہت سے Facebook پر تو ہم بھی Friend Request بھیج کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو Chat کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں وہ نقلی پلکیں اتارے تو ہم بھی دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی ہر اک Photo، اک قیامت ہے سو Photo Shop سے ہم بھی سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو Lipstick پہ یہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے مثل آئینہ ہے جبیں اس کی تو ہم بھی ماتھے پہ Powder رگڑ کے دیکھتے ہیں سنا ہے پردہ داری ہے پسند اس کو  چلو تو ہم بھی اس کو ماسک پہن کر دیکھتے ہیں

منتخب غزلیں

غزل نمبر 1 پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے  ایک بادل سے بڑی آس لگا رکھی ہے  تیری آنکھوں کی کشش کیسے تجھے سمجھاؤں  ان چراغوں نے مری نیند اڑا رکھی ہے  کیوں نہ آ جائے مہکنے کا ہنر لفظوں کو  تیری چٹھی جو کتابوں میں چھپا رکھی ہے  تیری باتوں کو چھپانا نہیں آتا مجھ سے  تو نے خوشبو مرے لہجے میں بسا رکھی ہے  خود کو تنہا نہ سمجھ لینا نئے دیوانوں  خاک صحراؤں کی ہم نے بھی اڑا رکھی ہے    *اقبال اشہر* غزل نمبر 2 *آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا* *کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا* *بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے* *اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا* *جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے* *آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا* *یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں* *تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا* *یاروں کی محبت کا یقیں کر لیا میں نے* *پھولوں میں چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا* *محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیں* *جو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا* *خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں* *وہ ہاتھ کہ جس نے کوئی زیور نہیں دیکھا* *پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا* *میں موم ہوں ا...