منتخب غزلیں


غزل نمبر 1


پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے 
ایک بادل سے بڑی آس لگا رکھی ہے 

تیری آنکھوں کی کشش کیسے تجھے سمجھاؤں 
ان چراغوں نے مری نیند اڑا رکھی ہے 

کیوں نہ آ جائے مہکنے کا ہنر لفظوں کو 
تیری چٹھی جو کتابوں میں چھپا رکھی ہے 

تیری باتوں کو چھپانا نہیں آتا مجھ سے 
تو نے خوشبو مرے لہجے میں بسا رکھی ہے 

خود کو تنہا نہ سمجھ لینا نئے دیوانوں 
خاک صحراؤں کی ہم نے بھی اڑا رکھی ہے 
 
*اقبال اشہر*


غزل نمبر 2

*آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا*
*کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا*

*بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے*
*اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا*

*جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے*
*آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا*

*یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں*
*تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا*

*یاروں کی محبت کا یقیں کر لیا میں نے*
*پھولوں میں چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا*

*محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیں*
*جو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا*

*خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں*
*وہ ہاتھ کہ جس نے کوئی زیور نہیں دیکھا*

*پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا*
*میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر 
نہیں دیکھا*

بشیر بدر


غزل نمبر 3

*مجھ کو شکست دل کا مزا یاد آ گیا*
*تم کیوں اداس ہو گئے کِیا یاد آ گیا*

*کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر*
*کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد آ گیا*

*برسے بغیر ہی جو گھٹا گِھر کے کُھل گئی*
*اک بے وفا کا عہدِ وفا یاد آ گیا*

*مانگیں گے اب دعا کہ اُسے بھول جائیں ہم*
*لیکن جو وہ بوقتِ دعا یاد آ گیا*

*حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمارؔ*
*کیا بات ہو گئی جو خدا یاد آ گیا*

خمار بارہ بنکوی


غزل نمبر 4

کبھی خوشی سے خوشی کی طرف نہیں دیکھا 
تمہارے بعد کسی کی طرف نہیں دیکھا 

یہ سوچ کر کہ ترا انتظار لازم ہے 
تمام عمر گھڑی کی طرف نہیں دیکھا 

یہاں تو جو بھی ہے آب رواں کا عاشق ہے 
کسی نے خشک ندی کی طرف نہیں دیکھا 

وہ جس کے واسطے پردیس جا رہا ہوں میں 
بچھڑتے وقت اسی کی طرف نہیں دیکھا 

نہ روک لے ہمیں روتا ہوا کوئی چہرہ 
چلے تو مڑ کے گلی کی طرف نہیں دیکھا 

بچھڑتے وقت بہت مطمئن تھے ہم دونوں 
کسی نے مڑ کے کسی کی طرف نہیں دیکھا 

روش بزرگوں کی شامل ہے میری گھٹی میں 
ضرورتاً بھی سکھی کی طرف نہیں دیکھا

منوّر رانا





غزل نمبر 5

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے 
میں ہوں دردِ عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے 

میرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگی 
مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے 

مجھے چھوڑ دے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر 
یہ تری نوازشِ مختصر مرا درد اور بڑھا نہ دے 

میرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں 
مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے 

وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیلؔ کہاں ہے تو 
ترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے 

*✍️شکیل بدایونی*

Comments

Popular posts from this blog

ہزل اور پیروڈی

Poem on teacher in urdu استاد پر نظم

APJ Abdul Kalam ke Aqwal