ہزل اور پیروڈی


پیروڈی نمبر 1

*دور جدید کے کسی " فراز" کی غزل سنئیے* 😀😀👇👇😀😀👇👇

سنا ہے لوگ اُسے Zoom کر کے دیکھتے ہیں 
اگر یہ سچ ہے توپھر Add کرکے دیکھتے ہیں

سنا ہے ربط ہے اس کو حسین چہروں سے
سو اپنی Profile picture بدل کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دوست ہیں اسکے بہت سے Facebook پر
تو ہم بھی Friend Request بھیج کرکے دیکھتے ہیں

سنا ہے بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو Chat کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں
وہ نقلی پلکیں اتارے تو ہم بھی دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کی ہر اک Photo، اک قیامت ہے
سو Photo Shop سے ہم بھی سنور کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو Lipstick پہ یہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے مثل آئینہ ہے جبیں اس کی
تو ہم بھی ماتھے پہ Powder رگڑ کے دیکھتے ہیں

سنا ہے پردہ داری ہے پسند اس کو 
چلو تو ہم بھی اس کو ماسک پہن کر دیکھتے ہیں

Comments

Popular posts from this blog

Poem on teacher in urdu استاد پر نظم

APJ Abdul Kalam ke Aqwal