Poem on teacher in urdu استاد پر نظم

 


معلم
تم سے ہی ملّت و اقوام کی خوش حالی ہے
تم نے کشتی میری طوفان سے نکالی ہے

فرش کی خاک کو پرواز سکھائی تم نے
تم نے تقدیر ہزاروں کی بدل ڈالی ہے

میر اقبال اور غالب کو جنم تم نے دیا
تم سے ہی حسرت و شبلی ہے اور حالی ہے

 طفلِ بے حس کو سرے عرش بٹھایا تم نے
تم نے پتھر کی شکل مورتی میں ڈھالی ہے

ڈال کر خونِ جگر باغ کو سینچا تم نے
ہے تمہارا ہے لہو پھول پر جو لالی ہے

حسنین عا بد

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

ہزل اور پیروڈی

APJ Abdul Kalam ke Aqwal