Poem on teacher in urdu استاد پر نظم
معلم
تم سے ہی ملّت و اقوام کی خوش حالی ہے
تم نے کشتی میری طوفان سے نکالی ہے
فرش کی خاک کو پرواز سکھائی تم نے
تم نے تقدیر ہزاروں کی بدل ڈالی ہے
میر اقبال اور غالب کو جنم تم نے دیا
تم سے ہی حسرت و شبلی ہے اور حالی ہے
طفلِ بے حس کو سرے عرش بٹھایا تم نے
تم نے پتھر کی شکل مورتی میں ڈھالی ہے
ڈال کر خونِ جگر باغ کو سینچا تم نے
ہے تمہارا ہے لہو پھول پر جو لالی ہے
حسنین عا بد

Superb
ReplyDeletesuperb👌👌
ReplyDeleteSuperb
ReplyDeleteMashaallah mashaallah wabarakallah fi
ReplyDeleteShukriya hazraat
ReplyDelete