سبق آموز کہانیاں

 


کہانی نمبر 1 : بارش کا پہلا قطرہ بنئے



‎ایک آدمی گدھا ریڑھی پر شیشہ رکھ کر لے جا رہا تھا کہ راستے میں کھلے گٹر کی وجہ سے ریڑھی الٹ گئی اور شیشہ ٹوٹ گیا. وہ آدمی فٹ پاتھ پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور رونے لگا کہ اب مالک کو کیا جواب دوں گا.... اردگرد کے لوگ بھی آ کر ہمدردی اور تسلی دینے لگے . اتنے میں ایک بزرگ نے آ کر سو روپے کا نوٹ اس آدمی کے ہاتھ پر رکھ دیا اور کہا ... بیٹا میں جانتا ہوں اس سے تمھارا نقصان تو پورا نہیں ہوگا لیکن پھر بھی رکھ لو ... ان بزرگ کی دیکھا دیکھی اردگرد کھڑے لوگوں نے بھی سو پچاس سے اس آدمی کی مدد کردی. تھوڑی ہی دیر میں شیشہ کے پیسے پورے ہوگئے. وہ آدمی سب لوگوں کا شکریہ ادا کرنے لگا . ان میں سے ایک شخص بولا ... اگر شکریہ ہی ادا کرنا ہے تو ان بزرگ کا کرو جو ہمیں یہ راہ دکھا کر چپکے سے نکل گئے 

‎حقیقت بھی یہی ہے کہ ہم سب نیکی کے کام کرنا چاہتے ہیں مگر سوال یہ ہوتا ہے کہ پہلا قدم کون اٹھائے

‎راستہ کون دکھائے؟؟

‎آئیے آج ہم عہد کریں کہ ہمیں ہی پہلا قدم اٹھانا ہے اور ہمیں ہی راہ دکھانی ہے ...

•┈┈•◈◉❒ 📖 ❒◉◈•┈┈•


کہانی نمبر 2 : انداز بیان


ایک اندھا آدمی عمارت کے پاس بیٹھا تھا اور پاس ایک بورڈ رکھا تھا جس پہ لکھا تھا "میں اندھا ہوں برائے مہربانی میری مدد کریں" ساتھ میں اس کی ٹوپی پڑی ہوئی تھی جس میں چند سکے تھے.

ایک آدمی وہاں سے گزر رہا تھا اس نے اپنی جیب سے چند سکے نکالے اور ٹوپی میں ڈال دیے اچانک اس کی نظر بورڈ پر پڑی اس نے بورڈ کو اٹھایا اور اس کی دوسری طرف کچھ الفاظ لکھے اور بورڈ کو واپس رکھ دیا تاکہ لوگ اس کو پڑھیں

آدمی کے جانے کے بعد کچھ ہی دیر میں ٹوپی سکوں سے بھر گئی دوپہر کو وہی آدمی واپس جانے کے لیے وہاں سے گزر رہا تھا کہ اندھے نے اس آدمی کے قدموں کی آہٹ کو پہچان لیا اور اس سے پوچھا کہ تم وہی ہو جس نے صبح میرے

ورڈ پر کچھ لکھا تھا.

آدمی نے کہا کہ ہاں میں وہی ہوں

اندھے نے پوچھا کہ تم نے کیا لکھا تھا؟ کہ کچھ ہی دیر میں میری ٹوپی سکوں سے بھر گئی جو سارے دن میں نہ بھرتی

آدمی بولا: میں نے صرف سچ لکھا لیکن جس انداز میں تم نے لکھوایا تھا اس سے تھوڑا مختلف تھا میں نے لکھا "آج کا دن بہت خوبصورت ہے لیکن میں اس قابل نہیں کہ اس کا نظارہ کر سکوں"

آدمی نے اندھے کو مخاطب کر کے کہا: تم کیا کہتے ہو کہ جو پہلے لکھا تھا اور جو میں نے بعد میں لکھا دونوں کا اشارہ ایک ہی طرف نہیں ہے.


اندھے نے کہا یقیناً دونوں تحریریں یہی بتاتی ہیں کہ آدمی اندھا ہے لیکن پہلی تحریر میں سادہ لفظوں میں لکھا تھا کہ میں اندھا ہوں اور دوسری تحریر لوگوں کو بتاتی ہے کہ آپ سب بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ اندھے نہیں ہیں.

نتیجہ

ہم کو ہر حال میں اللہ شکر ادا کرنا چاہیے ہمارا ذہن تخلیقی ہونا چاہیے نہ کہ لکیر کے فقیر جیسا، ہمیں ہر حال میں مثبت سوچنا چاہیے


افسوس کے بغیر اپنے ماضی کو تسلیم کریں، اعتماد کے ساتھ حال کا سامنا کریں اور خوف کے بغیر مستقبل کے لیے تیار رہیں ۔


*︗︗︗︗︗︗︗︗︗


کہانی نمبر 3 : دلچسپ چوری اور بہترین سزا

ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔

جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا "تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟"

"بریڈ اور پنیر کا پیکٹ" لڑکے نے اعتراف کرلیا۔

"کیوں؟"

"مجھے ضرورت تھی" لڑکے نے مختصر جواب دیا۔

"خرید لیتے"

"پیسے نہیں تھے"

"گھر والوں سے لے لیتے"

"گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔"

"تم کچھ کام نہیں کرتے؟"

"کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔"

"تم کسی سے مدد مانگ لیتے"

"صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی"

جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔

"چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔" یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔

"اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔"

فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: "اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔"

فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔


کہانی نمبر 4 : آنسو سے مٹھائی تک


ایک صاحب شدید مالی تنگی کا شکار تھے… کھانا پینا تو خیر پورا ہو جاتا تھا مگر رہائش کی سخت پریشانی تھی… 

وہ ایک اللہ والے بزرگ سے عقیدت رکھتے تھے… حالات سے تنگ ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے… اور عرض کیا کہ حضرت! بہت تکلیف ہے، بہت پریشانی ہے… بس ایک کمرے کا گھر ہے… اس میں خود بھی رہتا ہوں میری بیوی اور چار بچے بھی ساتھ ہیں… بوڑھی والدہ اور دو بہنیں بھی ساتھ ہیں… اور خاندان کی ایک بوڑھی رشتہ دار بیوہ خاتون بھی میرے زیر کفالت ہیں… اتنے سارے افراد اور ایک کمرہ… بہت سخت پریشانی ہے… یہ کہتے ہوئے ان کے آنسو بار بار چھلک پڑے…

بزرگوں نے گردن جھکائی ، غور کیا اور فرمایا… تمہارا مسئلہ حل ہو جائے گا… ایک مرغا لے آؤ … اور اسے بھی اپنے کمرے میں ساتھ رکھ لو …

وہ صاحب خوشی خوشی گئے… مرغا لیا اور اسے بھی کمرے میں رکھ لیا…

ایک ہفتے بعد بزرگوں کے پاس حاضر ہوئے تو پہلے سے زیادہ غمزدہ اور دکھی تھے… حضرت ! مسئلہ بالکل حل نہیں ہوا… بلکہ اب تو اور بڑھ گیا ہے… مرغا شور مچاتا ہے، گندگی پھیلاتا ہے…

بزرگوں نے گردن جھکائی، تھوڑا سا سوچا اور فرمایا… اب میں سمجھا… تمہارا مسئلہ تھوڑا بڑا ہے… تم ایک بکرا لے آؤ… اور اسے بھی ساتھ رکھو… اور ایک ہفتے بعد اطلاع دو…

ہفتے بعد وہ صاحب آئے تو پریشانی سے کانپ رہے تھے…

یا حضرت ! مسئلہ اور گھمبیر ہو گیا ہے … بکرا پیشاب بھی کر دیتا ہے اور نیند بھی ٹھیک نہیں کرنے دیتا…

بزرگوں نے غور کیا اور فرمایا… اچھا اچھا اب سمجھا تمہارا مسئلہ کیا ہے… تم ایسا کرو کہ ایک گدھا لے آؤ اور اسے بھی ساتھ رکھو… اور ہفتے بعد اطلاع کرو… 

ایک ہفتے بعد وہ صاحب آئے تو… لگتا تھا کہ… غم اور پریشانی سے ابھی وفات پا جائیں گے… آنسو اُن کی آنکھوں سے برس رہے تھے… اور وہ ادھ موئے ہو چکے تھے…

یا حضرت! اب تو زندگی سے تنگ ہو گیا ہوں… گدھے نے تو جینا حرام کر دیا ہے …

بزرگوں نے فرمایا اچھا ایسا کرو کہ مرغا نکال دو… اور ہفتے بعد اطلاع کرو…

وہ صاحب ہفتے بعد آئے اور کہنے لگے حالات میں تھوڑی سی بہتری ہو گئی ہے…

بزرگوں نے کہا… اچھا اب بکرا بھی نکال دو… اور ہفتے بعد اطلاع کرو…

ہفتے بعد انہوں نے آ کر بتایا کہ حالات پہلے سے کافی بہتر ہیں…

فرمایا اب گدھا بھی نکال دو اور ہفتے بعد اطلاع کرو… 

ہفتے بعد وہ صاحب آئے تو ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا…

چہرے پر مسکراہٹ اور انگ انگ میں خوشی…

یا حضرت! مسئلہ بالکل حل ہو گیا ہے… اب اپنا کمرہ بنگلہ لگتا ہے … سب گھر والے خوش ہیں… سب کھلے کھلے رہتے ہیں اور کمرہ… بالکل پاک صاف ہے… اسی خوشی میں مٹھائی لایا ہوں… قبول فرمائیے …

وہ صاحب مٹھائی دے کر چلے گئے تو بزرگوں نے فرمایا کہ… اب اس کی گاڑی کامیابی والی سڑک پر آگئی ہے…

اب یہ ہر دن… مزید راحت اور ترقی پائے گا ان شاء اللہ


شکوے سے شکر تک


وہ صاحب جب پہلی بار بزرگوں کے پاس آئے تھے تو وہ رو رہے تھے… اور آخری بار جب آئے تو خوش تھے… حالانکہ وہی کمرہ تھا اور وہی افراد… کچھ بھی اضافہ نہ ہوا تھا… 

آنسو سے مٹھائی تک کا یہ سفر…

شکوے سے شکر تک کا یہ سفر … بظاہر بہت چھوٹا ہے مگر حقیقت میں یہ… زمین سے آسمان تک کے سفر سے بھی زیادہ بڑا ہے …

وہ صاحب آئے تھے تو بزرگوں نے سمجھ لیا کہ … اُن کے  رزق میں تنگی کا بڑا سبب… ان کی ناشکری اور بے صبری ہے… یہ اگر ناشکری چھوڑ دیں تو ان کی روزی کے تمام دروازے کھل جائیں گے… چنانچہ بزرگوں نے ان پر پہلے سخت بوجھ لادا پھر یہ بوجھ ہلکا کیا تو… ان کی حالت بدل گئی…


اپنی بیماری میں کراہنے والا کوئی شخص… ہسپتال کے ایمرجنسی یا کیجولٹی وارڈ میں چلا جائے تو واپسی پر وہ شکر ادا کرتے ہوئے نکلتا ہے…


شیطان کا ایک نام ’’کفور‘‘ ہے… بہت بڑا ناشکرا… اور یہی ’’ناشکری‘‘ شیطان کے ہتھیاروں میں سے ایک مہلک ہتھیار ہے… شیطان سارا دن اور ساری رات ناشکری بانٹتا ہے …

آپ کے پاس جو سواری ہے… آپ کو اس سے اچھی سواری کی لالچ میں ڈال دے گا… تب اپنی سواری حقیر نظر آئے گی تو  ضرور ناشکری ہو گی …

اور جب ناشکری ہو گی تو پھر برکت ضرور اٹھ جائے گی… 

اس لئے ضروری ہے کہ… ہم شیطان کے اس وار کو سمجھیں … اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو کچھ عطاء فرمایا ہے… اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں…

اور اپنے دل کو اس نعمت پر راضی کریں…

آج مسلمانوں میں جو ہر طرف رزق کی تنگی اور بے برکتی پھیلی ہوئی ہے… اس کا ایک بڑا سبب… یہی ناشکری ہے 

اس ناشکری سے ہم سب توبہ کریں… اور اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگا کریں


یا اللہ مجھے جو عطاء فرمایا ہے…

 اسی پر مجھے خوشی اور قناعت عطاء فرما دے


میں اس پر راضی ہوں…

 جو 

کچھ اللہ تعالیٰ نے مجھے عطاء فرمایا ہے…


 بیوی ، اولاد، مکان ، خوراک ، کپڑے ،صحت وغیرہ…

 ان سب میں ہم شکرگذاری کے راستے کو اختیار کریں…......!!!


کہانی نمبر 5 : بھائی


میں نے گھر کی صفائی کی اسی دوران بھائی نے فون کیا کہ میں بیوی بچوں سمیت تمہاری ملاقات کیلئے آرہا ہوں.🎀


کہتی ہے کہ میں باورچی خانہ چلی گئ ، تاکہ ان کیلئے جلدی میں کچھ تیار کرسکوں، پر گھر میں صرف دو تین آم ہی پڑے تھے،جلدی میں دو گلاس جوس تیار کرلی. 


   جب وہ آئے، تو بھائی کے ساتھ اس کی ساس بھی تھی!

جو کہ اس سے پہلے کبھی بھی نہیں آئی تھی،تو میں نے دو گلاس جوس ماں اور بیٹی کے سامنے رکھ دی اور پانی کا گلاس بھائی کے سامنے رکھ کر کہا کہ،مجھے معلوم ہے کہ آپ کو سیون اپ پسند ہے... بھائی نے جیسے ہی گلاس منہ سے لگایا تو سمجھ گیا کہ یہ تو پانی ہے،

اسی دوران ساس نے میرے بھائی سے کہا: بیٹا سیون اپ میرے معدے کیلئے اچھا ہے اس لئے میرا جوس تم پی لو اور سیون اپ مجھے دو! 

یہاں پر میرے اوسان خطاء ہوئے، سخت شرمندگی ہوئی کہ میری چالاکی رسوا ہوگئی، پر ﷲ میرا بھائی💚 سلامت رکھے.


   بھائی نے اپنی ساس سے کہا : اس گلاس سے تو میں نے کافی سیون اپ پی لیا ہے، آپ کیلئے میں فریج سے بوتل لاتا ہوں، اس نے گلاس لیا اور جلدی سے باہر نکلا، تھوڑی دیر بعد ہم نے گلاس ٹوٹنے کی آواز سنی! بھائی واپس آیا، ساس سے کہا کہ سیون اپ کا بوتل تو مجھ سے گر کر ٹوٹ پڑا،میں جلدی سے تمہارے لئے دکان سے ایک بوتل لے آتا ہوں؟ ساس نے سختی سے انکار کیا کہ چلو یہ میرے نصیب میں نہیں تھا.🙏


   جب وہ رخصت ہونے لگے تو بھائی پیچھے رہا،خدا حافظ کہا مصافحہ کیلئے ہاتھ دیا، اور اسی دوران ہاتھ میں پیسے بھی تھمادیے ، اور مسکرا کر بولا، میری پیاری بہن کچن میں گرے ہوئے سیون اپ کی جگہ کو دھو ڈالنا. 🌹🌹🌹🌹

اسی طرح میرے پیارے بھائی نے میری کمزوری پر پردہ بھی ڈالا اور میرے ساتھ مدد بھی کی.👫

 (سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ)

ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو مضبوط کردیں گے۔

(سورت قصص 35)



کہانی نمبر 6 : ايمان افروز واقعہ

ﺳﻌﯿﺪ ﺟﺪﮦ ﺍﺋﯿﺮ ﭘﻮﺭﭦ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮬﻮﺍ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﻼﺋﯿﭧ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮬﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮬﻢ ﻭﻃﻦ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻣﺼﺮﯼ ﺣﺎﺟﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮬﻮﺍ ﺗﮭﺎ ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﺁﺳﻮﺩﮔﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺍﻭﺕ ﭼﮭﻠﮏ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ ، ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺣﺞ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﺳﮏ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﻃﻦ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺣﺎﺟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﮯ ، ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﻌﯿﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺣﺎﺟﯽ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﺍﯾﺎ ،، ﻣﯿﮟ ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﮬﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﺳﻮﺍﮞ ﺣﺞ ﮬﮯ ، ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮐﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﭘﺮ ﺑﮍﺍ ﻓﻀﻞ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﮧ ﮬﺮ ﺣﺞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﯾﺐ ﮬﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻼ ﮬﮯ ،، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭﺍﻧﮧ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺳﻌﯿﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮔﻮﯾﺎ ﺟﻮﺍﺑﺎً ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﻌﺎﺭﻑ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮬﻮ ،، ﺳﻌﯿﺪ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺞ ﮐﺎ ﻗﺼﮧ ﮐﭽﮫ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮬﮯ ﻃﻮﯾﻞ ﺍﻭﺭﮔﻨﺠﻠﮏ ﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮬﺘﺎ ،،، ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﮬﻢ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﻧﺘﻄﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮬﮯ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮬﺮ ﭼﯿﺰ ﺑﺎﮬﺮ ﺳﮯ ﺑﯿﺲ ﮔﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﮬﮯ ، ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﺳﺮ ﮬﯽ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻓﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮬﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺣﺎﺟﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﺒﺎﺭﯼ ﻧﮯ ﮬﻨﺴﺘﮯ ﮬﻮﺍ ﮐﮩﺎ ،،

ﺳﻌﯿﺪ ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﯿﺎ ﮔﻮﯾﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻧﮧ ﮐﺮ ﭘﺎ ﺭﮬﺎ ﮬﻮ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﮮ ،، ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﺍﺋﯿﻮﯾﭧ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻓﺰﯾﻮﺗﮭﺮﺍﭘﺴﭧ ﮬﻮﮞ ،ﺳﻌﯿﺪ ﻧﮯ ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ،،ﻣﯿﮟ ﻧﮯ 30 ﺳﺎﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺭﻗﻢ ﮐﭩﻮﺍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺣﺞ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﮬﮯ ، ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺞ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﭘﻮﺭﮮ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﮐﮯ ﻓﺎﺋﻨﺎﻧﺲ ﮈﯾﭙﺎﺭﭨﻤﻨﭧ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻧﮑﻼ ﮬﯽ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ،ﺟﺲ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﯾﮑﺴﯿﮉﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﻣﻌﺬﻭﺭ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ،ﻣﮕﺮ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭼﮫ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﺘﮭﮏ ﻣﺤﻨﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺎﺭ ﻭ ﺷﻔﻘﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ 50 ﻓﯿﺼﺪ ﭨﮭﯿﮏ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻣﯿﺪ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﺰﯾﺪ ﭼﮫ ﻣﺎﮦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﻣﮑﻤﻞ ﺻﺤﺘﯿﺎﺏ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ،، ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺠﮭﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﮬﯿﮟ ، ،، ﺷﺎﯾﺪ ﭘﮭﺮ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﻧﮧ ﮬﻮ ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺍﭼﮭﻨﺒﺎ ﮬﻮﺍ - ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﻋﻼﺝ ﺳﮯ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﻧﮧ ﮬﻮ ،، ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻋﻼﺝ ﺳﮯ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﯿﮟ ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮ ﮬﯽ ﺩﯾﺎ ،، ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ ،ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺑﺎﭖ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺳﻨﺒﮭﺎﻻ ﮬﮯ ،ﻣﯿﺮﺍ ﺗﻮ ﺭﻭﺍﮞ ﺭﻭﺍﮞ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ ، ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﻮﺕ ﺟﮕﺎ ﺩﯼ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﮈﯾﻮﭨﯽ ﺳﮯ ﮬﭧ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻭﺯﭦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺤﻔﮯ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺌﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮬﻢ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﮬﯿﮟ ،، ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺟﺎ ﺭﮬﯽ ﮬﯿﮟ ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ،، ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﺩﯼ ،،

ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺍﯾﮉﻣﻦ ﺁﻓﺲ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﮐﻤﺮﮦ ﻧﻤﺒﺮ ﺑﺘﺎ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﺭﮬﮯ ﮬﯿﮟ ؟ ﻭﮦ ﭼﮭﻮﮌ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮬﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﻤﺮﮦ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﻮﭨﺲ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ،ﻟﮍﮐﮯ ﮐﺎ ﻭﺍﻟﺪ ﺟﺎﺏ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﺟﺰ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﻤﺮﮦ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ،، ﻣﯿﮟ ﻭﮬﺎﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﻨﯿﺠﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺁﻓﺲ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﻋﻼﺝ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺍﺑﮭﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﺮ ﻧﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺭﮐﮭﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺳﻌﯿﺪ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﺍﺋﯿﻮﯾﭧ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﮬﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺮﯾﭩﯽ ﺍﺩﺍﺭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ ، ﯾﮩﺎﮞ ﻭﮬﯽ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﺍ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﮐﯽ ﺳﮑﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮬﮯ ،، ﻣﺪﯾﺮ ﮐﺎ ﺩﻭﭨﻮﮎ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺟﻮﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﮍﺍ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﺍﺋﯿﺎﮞ ﮬﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﯿﺐ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍﯾﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺞ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺭﮐﮭﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ،،

ﺩﻓﺘﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ " ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺷﻮﻕ ﮬﮯ ، ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﻮﺍﺏ ﺍﯾﮏ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﮭﮍﺍ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ،، ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮬﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺗﻮ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﺞ ﭘﮧ ﻧﮧ ﺁ ﺳﮑﺎ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﻣﺖ ﮐﺮﻧﺎ ، ﻣﯿﮟ ﻭﮬﺎﮞ ﺳﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺍﮐﺎﺅﻧﭩﻨﭧ ﺁﻓﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﭼﮫ ﻣﺎﮦ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮈﺳﭽﺎﺭﺝ ﺁﺭﮈﺭﺯ ﮐﯿﻨﺴﻞ ﮐﺮﺍ ﺩﯾﺌﮯ ،،،،،

ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺣﺞ ﭘﮧ ﻧﮧ ﺟﺎ ﺳﮑﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﺴﮏ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺗﮭﯽ، ،،،،

ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺞ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﮮ ﺩﯾﺌﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺣﺞ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﮯ ﺁﮔﺌﮯ ؟ ﻋﺒﺪﺍﻟﺒﺎﺭﯼ ﻧﮯ ﺑﮯﭼﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ،،

ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﺁﮐﺮ ﻟﯿﭩﺎ ﺗﻮ ﺣﺞ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﺳﮏ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﻈﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻡ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ،ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺊ ﺑﺎﺭ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﻃﻮﺍﻑ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ - ﮐﺊ ﺑﺎﺭ ﻟﺒﯿﮏ ﺍﻟﻠﮭﻢ ﻟﺒﯿﮏ ﮐﮩﺘﮯ ﻣﺠﻤﻌﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﻼ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ،، ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﮯ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮬﯽ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ ،، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺖ ﮐﺎ ﻃﻮﺍﻑ ﮐﺮ ﺭﮬﺎ ﮬﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺣﺞ ﮐﯽ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﮐﯽ ﺑﺸﺎﺭﺗﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮬﮯ ﮬﯿﮟ ۔۔ ﺣﺠﺎً ﻣﺒﺮﻭﺭﺍً ﯾﺎ ﺣﺎﺝ ﺳﻌﯿﺪ ،ﻟﻘﺪ ﺣﺠﺠﺖ ﻓﯽ ﺍﻟﺴﻤﺎﺀ ﻗﺒﻞ ﺍﻥ ﺗﺤﺞ ﻓﯽ ﺍﻻﺭﺽ ، ﺩﻋﻮﺍﺗﮏ ﻟﻨﺎ ﯾﺎ ﺣﺎﺝ ﺳﻌﯿﺪ ،، ﺍﮮ ﺳﻌﯿﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺗﯿﺮﺍ ﺣﺞ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ،ﺗﻮ ﻧﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺣﺞ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ،ﮬﻤﺎﺭﮮ ﺣﺞ ﮐﯽ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻭ ،،

ﺍﺳﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﻓﻮﻥ ﮐﯽ ﮔﮭﻨﭩﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮕﺎ ﺩﯾﺎ - ﻓﻮﻥ ﭘﺮ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﮐﺎ ﻣﯿﻨﺠﺮ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﮐﮩﮧ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺣﺞ ﭘﺮ ﺟﺎ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ ، ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﺹ ﻣﻌﺎﻟﺞ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ، ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻟﺞ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺷﺪﯾﺪ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮬﻮ ﮔﺊ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﻦ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﺎﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﺞ ﭘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ،ﻟﮩﺬﺍ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯿﺠﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ، ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻏﺬﺍﺕ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﯾﮉﻣﻦ ﺁﻓﺲ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﮟ ،،،،،،،،،

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺷﮑﺮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻧﻔﻞ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺌﮯ ﭘﮭﺮ ﮐﺎﻏﺬﺍﺕ ﺁﻓﺲ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﯿﺌﮯ ﯾﻮﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺑﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ،،ﺣﺞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮬﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﺴﻮ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﺞ ﮐﺮﺍ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﺎﺩﻡ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﮬﮯ ،ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﯽ ﮬﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﻭﺿﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ،، ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻨﺎﯾﺎ ،، ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﮑﮯ ﺳﮯ ﮬﯽ ﻓﻮﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﻋﻼﺝ ﺗﮏ ﺍﺳﮯ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﻼ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ ، ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﺷﻮﮬﺮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺳﭙﺮﻭﺍﺋﺰﺭ ﮐﯽ ﭘﻮﺳﭧ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯿﮧ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﺴﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ،، ﯾﻮﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻓﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺣﺞ ﮐﺮﺍ ﺩﯾﺎ ،،،

ﻋﺒﺪﺍﻟﺒﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﮯ ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺳﻌﯿﺪ ﮐﺎ ﻣﺎﺗﮭﺎ ﭼﻮﻣﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﺱ ﺣﺞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﻗﺮﺏ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﯾﺴﮯ ﮬﺰﺍﺭ ﺣﺞ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺍﺱ ﺍﯾﮏ ﺣﺞ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ،ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺣﺞ ﭘﺮ ﺁﺗﺎ ﺭﮬﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺧﻮﺩ ﮬﯽ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻻﯾﺎ ﮬﮯ ،، ﺣﺎﺝ ﺳﻌﯿﺪ ، ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺞ ﮐﯽ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﺩﻭ ،، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺣﺞ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﮐﺖ ﺩﮮ ،،


کہانی نمبر 7 :  محنت میں عظمت


کسی گاؤں میں ایک نو جوان رہتا تھا. پڑھائی لکھائی جب ختم ہوئی تو والدین نے نوکری کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ کئی مہینے وہ نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا لیکن کہیں نوکری نہ ملی.


ایک دن تھک ہار کر خود سے بولا، رزق تو اللہ کی ذات نے دینا ہے۔


 اب میں نوکری کی تلاش میں نہیں پھروں گا بلکہ سکون سے زندگی گزاروں گا۔۔ اللہ رازق ہے تو گھر بیٹھے ہی رزق دے گا.


اسی سوچ کے ساتھ یہ جوان صبح کی سیر کے لئے نکلا سیر کے بعد گاؤں کے قریب سے گزرنے والی نہر کے کنارے جا کر بیٹھ گیا.


ابھی بیٹھے پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ دیکھا ایک پتہ نہر میں نیچے کی طرف بہتا ہوا آ رہا ہے۔۔ 


چھلانگ لگا کر پتہ پکڑا تو یہ کیا دیکھتا ہے کہ پتے پر دو نان اور ان پر حلوہ پڑا تھا.

واہ خدایا! واقعی رزق تو کھانے والے تک خود پہنچتا ہے۔۔ حلوہ کھایا بہت لذیذ تھا. پیٹ بھر کر واپس گھر آ گیا.


ظہر کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا. ایک بار پھر حلوہ اور نان پتے پر آتے نظر آئے. اٹھائے اور کھا ليے.


مغرب کی نماز کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا. اس بار بھی وہی ہوا.

واہ! رات کے کھانے کا انتظام بھی ہو گیا.


اب روزانہ فجر، ظہر اور مغرب کی نماز کے بعد نہر کنارے جا کر بیٹھ جاتا اور بلا ناغہ نان اور حلوہ مل جاتے. یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔۔


ایک دن خیال آیا کہ دیکھوں کہ اللہ تعالٰی کس طرح یہ نان اور حلوہ بھجواتا ہے. اسی سوچ میں صبح کی نماز کے بعد نہر کی اوپری طرف چل پڑا. کچھ کلومیٹر ہی گیا ہو گا کہ دیکھا، ایک بابا جی ہیں جو نان اور حلوہ لئے نہر کنارے بیٹھے ہیں۔۔


قریب جا کر دیکھا۔۔ تو بابا جی نان کے اندر حلوہ رکھتے اور پھر اس گرم گرم حلوے سے اپنی ٹانگ پر نکلے ایک پھوڑے کو ٹکور کرتے، پھر ایک پتے پر نان اور حلوہ رکھ کر نہر میں بہا دیتے.


جوان کا دل ایک دم خراب ہونا شروع ہو گیا۔ ابکائیاں آنے لگیں کیا میں اتنے دنوں سے یہ حلوہ اور نان کھا رہا تھا؟

بابا جی سے پوچھا یہ ماجرا کیا ہے؟


بابا جی بولے:

کئی دنوں سے یہ پھوڑا نکلا ہوا تھا. جس کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔


 حکیم کے پاس گیا تو حکیم نے مشورہ دیا کہ روزانہ دن میں تیں بار سوجی کے حلوے کو نان پر رکھ کر اس کی ٹکور کروں، سو میں فجر، ظہر اور مغرب کے بعد ادھر آ جاتا ہوں۔


۔ نان اور حلوے کی ٹکور کے بعد نان اور حلوے کو پتے پر رکھ کر نہر میں بہا دیتا ہوں تاکہ خراب ہونے کی بجائے چرند پرند اور مچھلیاں ہی کھا لیں.


بے شک اللہ رازق ہے۔ رزق اللہ نے ہی دینا ہے، محنت اور کاہلی کے درمیان پھل کا فرق ہے.


جو محنت کرتے ہیں انھیں پاک اور صاف رزق ملتا ہے۔۔ جو کاہلی میں وقت گزارتے ہیں اور حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، رزق تو انہیں بھی ملتا ہے مگر وہ رزق جس میں کراہت اور گندگی ہو.


دنیا امتحان گاہ ہے۔ جہان رحمت اور محنت سے سفر ہوتا ہے. مقام ملتا ہے۔ رحمت نہ ہو تو محنت رائیگاں اور اگر محنت نہ ہو تو رحمت اسی طرح کی بے ثمر.




Comments

Popular posts from this blog

ہزل اور پیروڈی

Poem on teacher in urdu استاد پر نظم

APJ Abdul Kalam ke Aqwal