Marta Gareeb hi hai موجودہ حالات پر ایک تازہ نظم

 موجودہ حالات پر ایک تازہ نظم ملاحظہ فرمائیں




اب تک سمجھ نہ آیا
قصہ عجیب ہی ہے
کیسی بھی ہی مصیبت
مرتا غریب ہی ہے

ہو کاروباری مندی
یا چاہے نوٹ بندی
ہو چاہے امیروں پر
جی۔ایس۔ٹی کی پابندی
مرتا غریب ہی ہے

ہو چاہے لاک ڈاؤن
یا ایکونومی ڈاؤن
ہڑتال کی وجہ سے
جب مارکیٹ ہو ڈاؤن
مرتا غریب ہی ہے

جب بڑھتی ہو مہنگائی
یا مرض ہو وبائی
جب بند ہوں ٹرینیں
ہو سفر کی منائی
مرتا غریب ہی ہے

✒️ حسنین عابد

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

ہزل اور پیروڈی

Poem on teacher in urdu استاد پر نظم

APJ Abdul Kalam ke Aqwal